شامی مزاکرات: شامی فریقین خانہ جنگی کے خاتمے پر متفق بشار الاسد کے مستقبل کا فیصلہ نہ ہو سکا

hamwatanماسکو،دمشق(فارن ڈیسک) شامی صدر بشار الاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان شام میں خانہ جنگی ختم کرنے کی از سر نو کوششوں پر اتفاق ہو گیا ہے ۔آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں شام کا اہم اتحادی ایران پہلی بار شریک ہوا تھا۔مذاکرات میں شریک ہونے والے مختلف ممالک کے وزرا نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ سے شام میں ایک نیا عمل شروع کرنے کے لیے کہا جائے جس کے تحت جنگی بندی ہو اور نئے انتخابات کرائے جا سکیں۔تاہم مذاکرات میں صدر بشار الاسد کے مستقبل پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ اس بابت تازہ مذاکرات دو ہفتوں میں ہوں گے ۔دریں اثنا بات چیت سے قبل دمشق کے نواحی علاقے میں شامی حکومت کی جانب سے ہونے والے ایک حملے میں 57 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ادھرروس نے مشرقِ وسطیٰ میں ’’پراکسی وار‘‘ یا درپردہ جنگ کے خطرات پر متنبہ کیا ہے ۔روس کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے شام میں خصوصی فوجیں روانہ کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے ۔روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ اس صورت حال نے روس اور امریکہ کے درمیان تعاون کی ضرورت میں مزید اضافہ کیا ہے ۔لاوروف نے کہا کہ امریکہ نے شام کی قیادت سے بغیر کسی بات چیت کے یکطرفہ طور پر فیصلہ کیا ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ نہ امریکہ اور نہ ہی روس کسی قسم کی پراکسی جنگ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔انھوں نے یہ بیان ویانا میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے ایلچی اسٹیفن دی مسٹورا کے ساتھ بات چیت کے بعد دیا۔ ایران کے نائب وزیرخارجہ عامرعبدالہیان نے کہا ہے کہ ایران بشار الاسد کو ہمیشہ اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتا تاہم ہماری کوشش یہ ہے کہ مغربی طاقتیں یہ سمجھ لیں کہ بزور قوت اسد کو اقتدار سے ہٹانا ممکن نہیں ہے ۔دوسری جانب مڈل ایسٹ سے تعلق رکھنے والے ایک نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا مقصدسمجھوتے کرنا ہے اور ایران اس بات پر سمجھوتا کرنے کے لئے تیار ہے کہ بشار الاسد آئندہ چھ ماہ تک اقتدار میں رہیں اور اس کے بعد شام کے عوام اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں۔ دوسری جانب مغربی طاقتوں کے حمایت یافتہ شام کے اپوزیشن لیڈر جارج صابرہ کا کہنا تھا کہ شام کی موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد دیوانے کا خواب ہے اور یہ ایران کی ایک چال ہے ۔ علاوہ ازیں روس کے جیمنگ سسٹم نے حیران کن طور پر شام میں نیٹو کودھچکا لگا یا ہے ، نیٹو کا الیکٹر ونک نظام معطل ہو نے سے افسران میں کھلبلی مچ گئی۔شام میں لڑائی والے علاقے سے روس کا ایک نیا الیکٹرونک جیمنگ سسٹم راڈار کو چندھیا دیتا ہے ، الیکٹرونک کے رہنما نطاموں کو جام کر دیتا ہے اور ایک پورٹل کی خبر کے مطابق سیٹیلائٹ کی تصویروں میں بھی خلل ڈال دیتا ہے ۔ یہ دونوں نظام مل کر وہ ہیں جن کو نیٹو کے سپریم کمانڈر جنرل فلپ بریڈ لوو روس کے اس نظام کو شام میں بلبلہ کا نام دیتے ہیں۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>