بھارتی پنجاب میں سکھوں کی مذہبی کتاب کی پھر بے حرمتی،پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ دوبارہ چل پڑا

Hamwatanامرتسر: بھارتی پنجاب میں سکھوں کی مذہبی کتاب کی پھر بے حرمتی،پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ دوبارہ چل پڑا،مظاہرین ک فورسز پر پتھراو¿،درجنوں گاڑیاں نذر آتش،سکھ تنظیموں نے جگہ جگہ ناکہ بندی کر کے ٹریفک جام کر دی، وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کے گولڈن ٹیمپل میں سکھ گرودوارہ مینیجنگ کمیٹی سے مذاکرات بھی ناکام ہوگئے ۔

بھارتی پنجاب کے ریاستی میڈیا کے مطابق ہفتہ کو علی الصبح بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع ترن تارن کے گاو¿ں باٹھ میں سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب کے ساتھ بے ادبی کے ایک اور واقعے کی اطلاعات کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔چند روز قبل فرید کوٹ میں بھی اسی طرح کے ایک واقعے کے بعد کشیدگی پھیل گئی تھی جس کے بعد پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ چل پڑا۔ترن تارن کے پولیس سپرنٹینڈنٹ جگموہن سنگھ کے مطابق پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس درج کر لیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق باٹھ گاو¿ں میں گروگرنتھ صاحب کی بے ادبی کے واقعہ کی اطلاع پر کئی سکھ تنظیمیں مشتعل ہوگئیں۔ سکھ تنظیموں کو ارکان عوام کی بڑی تعداد کے ہمراہ سڑکوں پر نکل آئے جہاں توڑ پھوڑ کے بعد کئی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیاہے جن میں ایک گاڑی اخبار لے کر جا رہی تھی ۔مظاہرین کی گاو¿ں میں آنے والے سکھ گرو دوارا مینیجنگ کمیٹی کے سابق نائب صدر اروندر پال سنگھ کے ساتھ بھی ہاتھا پائی ہوئی ہے جو مشتعل مظاہرین کو پر امن رہنے کی اپیل کر رہے تھے ،اس کے علاوہ پولیس اور فورسز پر بھی پتھراو¿ کیا ہے ۔ دھینگا مشتی ہوئی۔ سکھ تنظیموں میں میڈیا کے خلاف بھی شدید غم و غصہ ہے۔مختلف سکھ تنظیموں نے اپنے احتجاج کو تیز کرتے ہوئے جگہ جگہ ناکہ بندی کر دی ہے جس سے ٹریفک جام ہو کر رہ گئی ۔دوسری طرف بدھ کو فرید کوٹ میں مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دینے والے ضلع کے سینئر پولیس سپرنٹینڈنٹ چرنجیت سنگھ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ فرید کوٹ میں پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے تھے اور کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔گزشتہ ہفتے گروگرنتھ صاحب کی مبینہ بے ادبی کے بعد سے پنجاب کے کئی اضلاع میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس کے خلاف پر تشدد مظاہروں کے بعد پنجاب کے کئی اضلاع میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

امرتسر کے پولیس کمشنر جتیندر پال سنگھ اولھ نے بتایا کہ جہاں جہاں ضرورت ہے پولیس فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ضلعے میں صورت حال قابو میں ہے۔ دوسری جانب پرتشدد واقعات اور کتاب کی بے ادبی کے تازہ واقعات کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے امرتسر میں سکھوں کی مقدس ترین عبادت گاہ گولڈن ٹمپل پر حاضری دی اور ریاست کے تازہ حالات پر سکھ گرودوارہ مینیجنگ کمیٹی کے رہنماو¿ں سے مذاکرات کئے ،آخری اطلاعات تک یہ مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں اور سکھ نمائندوں نے وزیر اعلیٰ سے ملزمان کی گرفتاری اور سکھوں کے مذہبی ورثے کی حقاظت کا مطالبہ کیا ہے ۔پرکاش سنگھ بادل نے سکھ تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور لوگوں کو بھی پر امن رہنے کی تلقین کریں

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>