امن کا نوبل انعام تیونس کی 4 مختلف تنظیموں کے نام

2 اوسلو: نوبل امن کمیٹی کی جانب سے تیونس کی 4 مختلف سول تنظیموں کے لیے امن کے نوبل انعام کا اعلان کردیا گیا۔
نوبل انعام پانے والوں میں جنرل لیبر یونین، صنعتوں کی کفیڈریشن، انسانی حقوق اور وکلا کی تنظیمیں سے ہے اور انہوں نے 2013 میں ایک پلیٹ فارم سے اپنی جدوجہد اس وقت شروع کی تھی جب 2 اہم سیاسی شخصیات قتل کی گئی تھیں اور مذہبی اور سیکولر حلقوں میں فسادات شروع ہوچکے تھے۔ جب کہ ’’قومی مذاکراتی ٹیم‘‘ کے ان اراکین نے ملک میں آئین میں مناسب تبدیلی بھی کروائی جس سے ہرجنس، عمر، سیاسی دھڑے اور مذہبی عقائد رکھنے والے افراد کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوا۔
نوبل کمیٹی نے خدشہ ظاہرکیا کہ اگر یہ تنظیمیں اپنا اہم کردار ادا نہ کرتیںتو ملک خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا تھا تاہم ان کے اہم کردار کی بدولت ہی انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔
عرب انقلاب کے بعد تیونس نہایت کامیابی سے جمہوری راہ پر گامزن ہوا جب کہ عرب ممالک میں سیاسی اصطلاحات کے لیے عوامی طور پر سرگرم ممالک مثلاً لیبیا، مصر، یمن اور شام میں یا تو حکومتیں تبدیل ہوئیں یا پرتشدد کارروائیاں شروع ہوگئیں لیکن تیونس اس انقلاب کو پرامن اندازمیں جھیل گیا۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>