انسانی جسم کو خوبصورت بنانے کا فلاح کریموں کادھندہ قلعہ دیدارسنگھ میں بھی کاروبار عروج

hamwatanقلعہ دیدارسنگھ(حسیب آصف پدھیر سے)دنیا بھر کی طرح انسانی جسم کو خوبصورت بنانے کا فلاح کریموں کادھندہ قلعہ دیدارسنگھ میں بھی کاروبار عروج پر لیکن ہر خواتین کی شدید ترین خواہش ہوتی ہے کہ وہ حسین ،خوبصورت اور سب سے بڑھ کر کم عمر نظر آئیں ،اس خواہش کی تکمیل کے لیے وہ ہر طریقہ و حربہ اپنانے کو تیار ہوجاتی ہیں۔ان کو جیسے ہی پتہ لگتا ہے کہ فلا ں کریم لگانے سے وہ کم عمر اور خوبصورت نظر آسکتی ہیں،وہ بغیر سوچے سمجھے اس کے حصول کے لیے کوشاں ہو جاتی ہیں ۔ایسی خواتین یہ بھی سوچنے کی زحمت نہیں کرتیں کہ ایسے تجربے ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔خواتین کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے لیے مختلف کمپنیوں نے رنگ گورا کرنے والی ، حسین بنانے والی ،کم عمر بنانے والی اور داغ دھبے دور کرنے والی کریمیں بنانا شروع کردی ہیں جن میں بیشتر کریمیں انسانی جلد کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔اس طرح کی کریمیں استعمال کرنے سے آپ کی جلد حساسیت کا شکار ہوسکتی ہے اور آپ کسی بڑی مشکل کا شکار ہوسکتی ہیں۔ماہر امراض جلد کے مطابق ان اشیاء کے ذریعے سے خواتین لٹکتی کھال ،جھڑیوں ،گہری ہوئی رنگت اور کھلے مساموں وغیرہ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں کیونکہ ان کے ذہین میں یہ بات بٹھادی جاتی ہے کہ ان کے استعمال سے ان کی جلد دمک اٹھے گی اور نوجوانی جیسا روپ اور جمال لوٹ آئے گا ،لیکن اس کے برخلاف ان میں سے اکثر کئی قسم کی جلد بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔دراصل ان اشیاء میں گلائیکولک ایسڈ کے علاوہ جلد میں خراش پیدا کرنے والے اجزا مثلا النشیں(Allantion)اور ٹریٹی نائن(Tretinoin)وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔جن کریموں ،لوشنوں میں یہ اجزازیادہ شامل ہوتے ہیں ان سے جلد میں خراش کی شکایت بھی زیادہ لاحق ہوتی ہے ۔ان اجزا کے علاوہ دھوپ کی وجہ سے یہ شکایت اور بڑھ جاتی ہے۔اکثر خواتین کسی دوسرے کی دیکھا دیکھی ان لوشنز اور کریموں کا استعمال شروع کردیتی ہیںکیونکہ ان کو لگتا ہے کہ اس کریم کا ان پر بھی وہی اثر ہوگا جو کسی دوسرے کے چہرے پر ہوا ہے حالانکہ یہ ضروری نہیں کیونکہ ہر خاتون کی جلد دوسری خاتون سے مختلف ہوتی ہے اس لئے اس کریم یا لوشن کا اثر بھی مختلف ہوسکتا ہے ۔ایک اور بڑی وجہ جس کی بدولت لڑکیاں یہ کریم استعمال کرتی ہیں۔کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ وہ جب تک گوری نہیں ہوں گی ۔ان کے نہ اچھے رشتے آئیں گے نہ ان کی شادی ہوگی کیونکہ ہمارے معاشرے میں یہ ریت عام ہوچکی ہے کہ لڑکی گوری ہونی چاہیے۔اور گورا ہونے کے چکر میں اکثر لڑکیاں ان اشیاء کو استعمال کرکے نقصان اٹھا بیٹھتی ہیں۔کیونکہ بغیر سوچے سمجھے اور ڈاکٹر کا مشورہ لئے ان کریموں کے استعمال سے بہت سی جلد بیماریاں مثلا کھجلی ،خارش،جلن،چھونے سے درد،سرخی کھال کا اترنا ،خشکی ،کھال میں کھچائو کی کیفیت ،اس میں گو مٹریوں یا ابھارا کا بننا یا جلد کا پھٹ جانا لاحق ہوسکتی ہیں ان میں سب سے زیادہ عام مرض اگزیما ہے۔اگزیما کے مریض کی جلد دراصل جلد کے دفاعی نظام کے کمزور ہونے کی وجہ سے بیماری کا شکار ہوجاتی ہے کیونکہ جلد کا دفاعی نظام زیادہ حساس ہوتا ہے اور جب بھی کوئی بیرونی شے جلد سے چھوتی ہے،جلد کا یہ نظام فوراً اس کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرتا ہے یہ صورت حال انسانی جلد کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے،یکایک ہونے والی خارش اور فوری کھجلانے کی کوشش دراصل اس جگہ خارش کا سبب بننے والی شے کو دور کرنے کی علامت ہوتی ہے۔بوڑھی خواتین کی جلد بھی حساس ہوتی ہے،کیونکہ عمر میں اضافے کی وجہ سے ان کے پسینے اور چکنائی تیار کرنے والے غدود کمزور بلکہ بوڑھے ہونے لگتے ہیں۔اس لئے وہ خواتین جو اپنے آپ کو جوان ،خوبصورت اور گوراکرنے کی کوشش میں مصرف ہیں ہو یہ بات سمجھ لیں کہ جلد کی رونق و تازگی وہ صرف اپنی جلد کی حفاظت کرکے ہی برقرار رکھ سکتی ہیں اس کے لیے ان کو انواع و اقسام کی چیزیں استعمال کرنے اور پیسے کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس کے علاوہ ایک بات ضرور ذہین نشین کر لینی چاہیے کہ گورا رنگ کسی خوشی کی ضمانت نہیں ہے اور نہ ہی گورے ہونے سے شادی ہوجانے کی گارنٹی مل جاتی ہے ،اس لئے آپ جیسی ہیں اسی پر اکتفا کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ قدرتی خوبصورتی سے بھی آپ محروم ہوجائیں ،اس کے ساتھ ساتھ خواتین پر عمر کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ نمایاں ہوتے ہیں اور یہ ایک قدرتی عمل ہے جس کو آپ کسی صورت روک نہیں سکتیں ہا ں اپنی جلد کی گھریلو اشیاء کی مدد سے صفائی ستھرائی کرکے اس عمل کو سست ضرور کرسکتی ہیں۔ان سب باتوں کے باوجود اگر آپ کوئی چیز اپنی جلد پر استعمال کرنا چاہتی ہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیں اور اس کے بغیر کوئی چیز استعمال نہ کریں۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>