نئی آٹو پالیسی ؛ 3سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی تجویز

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے نئی پانچ سالہ مجوزہ آٹو موٹو ڈیولپمنٹ پالیسی کے تحت تین سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت دینے کی تجویز دیدی ہے جبکہ انجیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے مخالفت کردی ہے۔
علاوہ ازیں ایف بی آر نے معذور افراد کے لیے پانچ سال تک پرانی گاڑیاں درآمد کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ وزارت تجارت اور انجیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے معذور افراد کے لیے اسپیشل گاڑیوں کی درآمد کے لیے پانچ سال تک پرانی گاڑی کی مدت مقرر کرنے کی مخالفت کردی ہے۔ اس ضمن میں2 کو دستیاب دستاویز کے مطابق نئی آٹو موٹو ڈیولپمنٹ پالیسی میں وزارت تجارت نے درآمدی پالیسی کے تحت پرانی کاروں اور پک اپس کے لیے عمر کی حد تین سال مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔
تاہم ایف بی آر نے پرانی کاروں اور پک اپس کی درآمد کے لیے عمر کی حد تو تین سال ہی مقرر کرنے کی تجویز کی حمایت کی ہے، البتہ ایف بی آر نے تجویز دی ہے کی تین سال تک پرانی گاڑیوں کی کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت دی جائے اوراسے ٹرانسفر آف ریزیڈنس،گفٹ اسکیم اور بیگج تک محدود نہ رکھا جائے جبکہ وزارت تجارت نے فور بائی فور ٹرکوں، ایل سی ویز اور ایچ سی ویز ٹرکوں بسوں کی درآمد کے لیے عمر کی حد پانچ سال مقرر کرنے کی تجویز دی ہے اور مخصوص مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کی درآمد کے لیے عمر کی حد مقرر نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔
جس سے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے بھی حمایت کی ہے تاہم فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تجویز دی ہے کہ مخصوص مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی ایسی گاڑیاں جنہیں ٹرکوں اور بسوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ان کی درآمد کے لیے پانچ سال تک پرانی ہونے کی حد مقرر کی جائے اور اس سے زیادہ پرانی گاڑی درآمد کرنے کی اجازت نہ دی جائے تاکہ اس کا غلط استامل نہ ہوسکے اور معذور افراد کے لیے منگوائی جانے والی گاڑیوں کی درآمد پر سہولت دی جائے۔
دستاویز کے مطابق انجیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے ایف بی آر کی جانب سے نئی پانچ سالہ مجوزہ آٹو موٹو ڈیولپمنٹ پالیسی کے تحت تین سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت دینے کی تجویز کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے آٹو موٹو سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور اس کے ملک میں آٹو موٹو مینوفیکچرنگ سیکٹر کے موجودہ سرمایہ کاروں و مینوفیکچرنگ کمپنیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے لہٰذا تین سال پُرانی گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انجیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے یہ بھج تجویز دی گئی ہے کہ ٹرانسفر آف ریذیڈنس اور گفٹ اسکیم سمیت دیگر اسکیموں کے تحت درآمد کی جانے والی گاڑیوں کے لیے بیرون ممالک میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی ادائیگی بینکوں کے ذریعے ہونی چاہیے۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>