فرانس اور انقلابِ فرانس

hamwatanارادہ تو تھا کہ برطانیہ سے ایک دو روز کے لیے فرانس بھی جاؤنگا مگر کئی دوستوں سے معذرت کرنے کے باوجودبرطانیہ میں تقریبات اور مصروفیات اتنی بڑھ گئیں کہ فرانس جانے کا پروگرام ڈانواں ڈول ہونے لگا، پھر ایک روزلون صاحب نے علی الصبح بیڈ روم کا دروازہ کھٹکھٹا کر پہلے اٹھا یا اور پھر بتایا کہ فرانس سے پاکستان کے سفیرصاحب کا فون آیا تھا۔

وہ آپ سے ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ غالب اقبال (جو خو ش لباس بھی ہیں اور خوش ذوق بھی، فارن سروس کے ان تگڑے اور جُراٗتمند افسروں میں شمارہوتے ہیں جو کسی سے دبتے نہیں اور اصولی بات پر اسٹینڈ لینے کی ہمّت رکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میرے بَیج میٹ اور دوست بھی ہیں) سے فون ملایا تو کہنے لگے’’ ہم آپ کا پیرس میں انتظار کررہے ہیں اورآپ ریڈنگ میں سوئے ہوئے ہیں فوراً پہنچ جائیں‘‘۔ گزشتہ روز علی الصبح ہم لندن سے پیرس جانے کے لیے یورواسٹار (لندن اور پیرس کے درمیا ن چلنے والی ٹرین جو سمندر میں بنائی جانے والی سرنگ سے گزر تی ہے) میں بیٹھ چکے تھے۔ اور باہر کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے۔
تھوڑی دیر بعد برینڈڈ سوٹ میں ملبوس ایک باوقار شخص ٹرین میں داخل ہوا میں نے دل میں سوچا کہ وہ فرانس کی کابینہ کاوزیرہوگا یا پھر سینیٹروغیرہ ہوگااگروہ میرے ساتھ والی خالی سیٹ پر بیٹھا تو اچھی گپ شپ رہی گے ۔ ایسا ہی ہوا اِس نے میری سیٹ کی جانب بڑھنا شروع کیا تو میں مزید خوش ہوا کہ اس سے فرانس کی سیاست کے بارے میں دلچسپ بات چیت ہوگی ۔اس سے فرنچ کلچر کے بارے میں کیا پوچھنا ہے، میں ذہن میں سوالوں کی ترتیب طے کرنے لگا پھر وہ میرے بالکل قریب پہنچ گیا مگر میرے کچھ پوچھنے سے پہلے اُس نے پوچھ لیا۔ لیکن کلچر یا سیاست کے بارے میں نہیں ٹِکٹ کے بارے میں !کیونکہ وہ کوئی وزیر یا سینیٹر نہیں ٹکٹ چیکر تھا۔
برطانیہ ا ور فرانس کی آپس میں جنگیں بھی ہوئی ہیں اور دونوں نے ملکر بھی جنگیں لڑی ہیں، اب دونوں ملکوں کے درمیان بہت اچھے ہمسائیوں جیسے تعلقات ہیں، ہر روز ہزاروں لوگ اپنی نوکریوں پر لندن سے پیرس اور پیرس سے لندن جاتے ہیں اور شام کو گھر لوٹ آتے ہیں۔ پہلے دونوں ملکوں کے درمیان سمندر حائل تھا۔ دونوں نے مل کر سمندر کے اندر سے سرنگ نکال کر اس میں ریل کی پٹری بچھادی ہے جس سے سفر بے حد آسان اور پر لطف ہوگیا ہے۔
پیرس کے ریلوے اسٹیشن پر پاکستان ایمبیسی کا ڈرائیور یوسف مجھے لینے کے لیے آیا ہوا تھا ۔ اس نے پیرس کی مشہور اسٹریٹ شانزے لیزے کا چکر لگا کرجب گاڑی سفارتخانے کی طرف موڑی تو دور سے ہی پاکستان کا سبز ہلالی پرچم نظر آگیااورقلب و روح تک نہال ہوگئے۔
غالب اقبال کے دفتر میں خوش ذائقہ کافی پرپیرس اور پاکستان کی ثقافت اور سیاست کے علاوہ مشترکہ دوستوں کے بارے میں گپ شپ ہوتی رہی پھر اُسے ہی خیال آیا کہ “آپ کو تو سیرکے لیے بلایا ہے اور آئے بھی صرف ڈیڑھ دن کے لیے ہو۔ کہاں سے شروع کرناہے؟”۔ میں نے کہا” تاریخ کا کھوج لگانے کے لیے آیا ہوں۔ اور فرانس کی تاریخ تو 1789 سے شروع ہوتی ہے جب جدید دنیا نے پہلا عوامی انقلاب دیکھا تھا۔ انقلابِ فرانس ۔۔
یورپ کی تاریخ میں دو عظیم جنگوں کے علاوہ رونما ہونے والا سب سے بڑا واقعہ انقلابِ فرانس ہے۔ جس کا آغاز 1789 میں ہوا ۔ اور جس کا بیج روسو جیسے مفکرّوں نے عوام کے دلوں میں غلامی سے نجات حاصل کرنے اور آزادی سے ہمکنار ہونے کا جذبہ بیدار کرکے بویا تھا۔ جس کے نتیجے میں پِسے ہوئے بے زبان عوام نے بغاوت کرکے بادشاہوں کے تاج اچھال دیے تخت گرادیے اور شہنشاہیت کو جڑ سے اکھاڑ دیا ۔ جدید تاریخ کا یہ سب سے بڑا انقلاب کیسے رونما ہوا؟ پسے ہوئے انسان اپنے حقوق کے لیے کیسے اٹھ کھڑے ہوئے ؟ انھی سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے میں تاریخ کے صفحات سے نکل کر پیرس اور ورسیلز کے گلی کوچوں میں آپہنچا تھا۔
سترھویں اور اٹھارویں صدی میں باقی یورپ کیطرح فرانس پر بھی بادشاہوں اور شہنشاہوں کی حکومت تھی اٹھارہویں صدی کے اختتام تک شاہِ فرانس لوئیس 14 اور اس کے پیشرؤںکی عیاشیوں اور شاہ خرچیوں کے باعث خزانہ خالی ہونے کو تھا۔ دو دہائیوں سے فصل کی پیداوار ناقص رہی تھی، روٹی کی قیمتیں بے تحاشا چڑھ گئیں۔
ملک میں قحط سالی کی ایسی آندھی چلی جس نے غریبوں او رکسانوں کے دلوں میں بے چینی اور نفرت کو جنم دیا، ظالم حکمرانوں نے غریب عوام پر مزید ٹیکس لگادیے جس کے جواب میں عوام کے مختلف گروہوں کی طرف سے پر تشدّد ہنگامے اور لو ٹ مار کے واقعات شروع ہوگئے۔ 1786 میں فرانس کے کنٹرولر جنرل الیگزینڈر نے حالات پر قابو پانے کے لیے مالی اصلاحات نافذ کیں جس کے مطابق جاگیردار بھی ٹیکس سے مستثنیٰ نہ رہے۔
ان اصلاحات کو سبوتاژ کرنے کے لیے بادشاہ (لوئیس xiv)نے 05مئی کو بااثر پادریوں نوابوں اور جاگیرداروں پر مشتمل اُن اتحادیوں کا اجلاس بلالیا جو دو فیصد ہونے کے باوجود اٹھانویں فیصد عوام پر حکومت کررہے تھے مگر اجلاس میں اکثریت کے نمائیندے بھی پہنچ گئے جنہوں نے مالی اور عدالتی نظام میں اصلاحات کے علاوہ ہر شہری کے لیے ووٹ کا حق مانگ لیااور ایک نمایندہ جمہوری حکومت کا مطالبہ کردیا۔
ورسیلز میں ہونے والایہ اجلاس بے نتیجہ رہا، ملک کے طول و عرض میں عوامی جذبات زیادہ بپھرنے لگے تو عوامی امنگوں کی نمائیندگی کرنے والے گروپ نے 17 جون کو ٹینس کورٹ میں ہی اپنی ’اسمبلی‘ کا اجلاس منعقد کر لیا اور عہد کیا کہ آئین میں عوامی امنگوں کے مطابق اصلاحات کرائے بغیر یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔ 27جون کو بادشاہ نے بپھرے ہوئے عوامی جذبات کو بھانپ کران کے مطالبات تسلیم کرلیے۔
ادھر دارلحکومت پیرس میں بلوے اور تشدد کی کارروائیاں شروع ہوگئیں ۔ 11جولائی کو عوام کے ایک بپھرے ہوئے گروہ نے باسٹلے کے قلعے پر حملہ کرکے اسلحہ اور گولہ بارود پر قبضہ کرلیا جس سے عملی انقلاب کا آغاز ہوگیا۔ اسی بناء پر اس دن کو فرانس میں قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے ۔انقلابی جوش و جنون کی لہر پورے ملک میں پھیلنے لگی۔ عوام نے ظالم استحصالی ٹولے کے خلاف پرتشدّد کاروائیاں شروع کردیں۔
بے زمین کسانوں نے محکمہ مال کے افسروں اور جاگیرداروں کے گھر جلادیے۔ اس کے نتیجے میں اسمبلی نے باقاعدہ طور پر 14اگست کو جاگیرداری نظام کے خاتمے کا اعلان کردی۔ جسے Death certificate of old order کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اسی روز انسانی اور شہری حقوق کا چارٹر منظور کرلیا گیا ۔3ستمبر 1791 کو آئینی بادشاہت قائم رکھنے کی کوشش کی گئی جومیکسمیلین روبس پیرے ڈیسمولنز اور جارج ڈینٹن جیسے ریڈیکل انقلابیوں نے ناکام بنادی اور مکمل جمہوری نظام قائم کرنے اور بادشاہ پر مقدمہ چلانے کے لیے حمایت حاصل کرنا شرو ع کردی۔ 10اگست1792 کو انقلابیوں کے ایک انتہا پسندٹولے نے پیرس میں شاہی محل پر حملہ کرکے بادشاہ کو گرفتار کرلیا۔
لیجیسلیٹو اسمبلی کی جگہ نیشنل کنونشن نے لے لی اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے جمہوری نظام کی بنیاد رکھدی گئی۔ صرف چند ماہ بعد21جنوری1793 کو بادشاہ کو پھانسی دے دی گئی۔ اس کے نو مہینے بعد ملکہ میری انٹونیٹ کو بھی موت کے گھاٹ اناردیا گیا۔ جون 1793میں انقلابیوں نے مزید انتہاپسندانہ اقدامات اٹھائے اور عیسائیت کے خاتمے کا اعلان کرکے نیا کیلینڈر جاری کردیا ۔ دس مہینوں میں انقلابیوں نے سترہ ہزار افراد کو پھانسی دے دی اور اس سے کئی گنا زیادہ اشخاص کو مقدمہ چلائے بغیر قتل کردیا گیا۔
22 اگست 1795 کو نیشنل کنونشن نے نیا آئین منظور کیا جس کے مطابق دو ایوانی پارلیمنٹ قائم کی گئی اور انتظامی اختیارات پارلیمنٹ کی مقرر کردہ پانچ رکنی ڈائرکٹری نے سنبھال لیے۔ شاہ پسندوں اور انتہا پسندوں ۔ دونوں نے اس نئے سیٹ اپ کے خلاف احتجاج کیا لیکن فوج نے مداخلت کی اور نوجوان جرنیل نپولین بوناپارٹ کی قیادت میں انھیں خاموش کرادیا۔ ڈائریکٹری نے چار سال حکومت کی، ان کی نااہلی اور کرپشن کے باعث ملک مالی بحران کا شکار ہوگیا۔ جب ہرطرف بے چینی اور اضطراب بڑھنے لگا تو بالآخر9نومبر 1799کو نپولین نے انھیںفارغ کرکے حکومت خود سنبھال لی ۔
ـشاہی محل میں گھومتے ہوئے گائیڈ نے مجھے اشارے سے بتایا کہ” محل کی یہی وہ بالکونی تھی جس پر کھڑے ہو کر ملکہ نے کہا تھا کہ “اگر عوام کو روٹی نہیں ملتی تووہ کیک کیوں نہیں کھاتے”۔ بلاشبہ جہاں حکمران، عام آدمی سے اسطرح کٹ جائیں کہ ان کی ضروریات ہی نہیں احساسات سے بھی ناآشنا ہوجائیں وہاں انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا ۔
نوٹ:ٹی وی رپورٹر کے سوال پر کیپٹن اسفندیار شہید کی والدہ محترمہ نے جواب دیا”میرا بیٹا اﷲکے لیے لڑا اور اس نے اﷲ کے لیے ہی جان دے دی” شہید کے والد محترم کی آنکھوں میں بھی آنسو نہیں، بیٹے کے مقام اور مرتبے پر فخر کی چمک تھی۔ بلاشبہ خالقِ کائنات کو شہید بہت پیارے ہوتے ہیں اس لیے وہ ان کے والدین کوبھی کسی علیحدہ مٹی سے ہی تخلیق کرتا ہے۔اسفندیار شہید اور اس کے عظیم والدین پر اﷲ کی رحمتیں نازل ہوں۔ پوری قوم کواپنے تمام شہیدوں اور اُن کے والدین پر فخر ہے۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>