حصص مارکیٹ میں محدود تیزی کے باعث 56پوائنٹس کا اضافہ

1کراچی: غیرملکیوں کی آئل سیکٹر میں منافع کے حصول کے لیے فروخت بڑھنے اور عیدالاضحی کی تعطیلات کی آمد کی وجہ سے کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو بھی محدود پیمانے پر تیزی رونما ہو سکی۔

تیزی کے سبب 58.54فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں بھی3 ارب17 کروڑ 78 لاکھ34 ہزار84 روپے کا اضافہ ہوگیا، ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے کیپٹل مارکیٹ کی تجارتی سرگرمیاں محدود رہیں گی تاہم عیدالاضحیٰ کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی۔
ٹریڈنگ کے دوران این بی ایف سیز کی جانب سے2 لاکھ6 ہزار 129 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے13 لاکھ 32 ہزار 168 ڈالراور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 1 لاکھ62 ہزار 598 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں ایک موقع پر335.37 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی 33100 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی تھی لیکن غیرملکیوں، مقامی کمپنیوں، بینکوں و مالیاتی اداروں اور میوچل فنڈز کی جانب سے مجموعی طور پر 66 لاکھ 58 ہزار 667 ڈالر مالیت کے سرمائے کے انخلا سے تیزی کی مذکورہ شرح میں کمی ہوئی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 55.78 پوائنٹس کے اضافے سے 32882.02 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 267.32 پوائنٹس بڑھ کر 54883.98 ہو گیا جبکہ اس کے برعکس کے ایس ای 30 انڈیکس 40.04 پوائنٹس کی کمی سے 19733.14 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 30.02 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر13 کروڑ70 لاکھ 60 ہزار510 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 357 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا ۔
جن میں209 کے بھاؤ میں اضافہ، 120 کے داموں میں کمی اور28 کی قیمتوں میں استحکام رہا، جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور فوڈز کے بھاؤ 332.50 روپے بڑھ کر 6982.50 روپے اور باٹا پاکستان کے بھاؤ110 روپے بڑھ کر 3100 روپے ہوگئے جبکہ شیزان انٹرنیشنل کے بھاؤ 29.11 روپے کم ہوکر760 روپے اور سفائر فائبر کے بھاؤ 20.16 روپے کم ہوکر772.34 روپے ہو گئے۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>