حکومت کا خاتمہ کون چاہتا ہے؟

Najeem Shah (Journalist)تحریر: نجیم شاہ
جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء حافظ حسین احمد اپنی بزلہ سنجیوں اور مزاحیہ بیانات کے حوالے سے کافی شہرت رکھتے ہیں۔ اخبارات اور رسائل کے ساتھ ساتھ ان کے بیانات اور خبروں کو الیکٹرانک میڈیا میں بھی پذیرائی دی جاتی ہے۔ ضرب عضب نیشنل کانفرنس کے دوران انہوں نے اسٹیج پر بیٹھے مقررین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی تقریروں میں راحیل شریف یا نواز شریف کہنے کے بجائے صرف ”شریف” کہا کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک شریف چلا جائے تو پھر بعد میں مسئلہ پیدا ہو جائے۔ حافظ صاحب چونکہ کمال کی حسِ مزاح رکھتے ہیں ، اس لیے انہوں نے یہ بات بھی یقینا محفل کو کشتِ زعفران بنانے کی غرض سے کی ہو گی، لیکن وزیراعظم نواز شریف نے کاشتکاروں کے اجتماع سے اپنے خطاب میں حریفوں کا نام لیے بغیر یہ کہہ ڈالا کہ کچھ لوگ میری حکومت کو ختم کرکے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ یہاں یہ سوال اُٹھتا ہوتا ہے کہ آخر میاں صاحب کو خطرہ کس سے ہے؟انہوں نے اگر یہ بیان دینا ہی تھا تو بہتر ہوتا اس کی تھوڑی بہت وضاحت بھی فرما دیتے۔ اس وقت میاں صاحب کے سب سے بڑے حریف تو عمران خان سمجھے جاتے ہیں، مگر تحریک انصاف کے 126روزہ دھرنے کے باوجود بھی حکومت تاحال قائم و دائم ہے، بلکہ دھرنے کے خاتمے کے بعد اسے باقاعدہ آکسیجن بھی مل چکی ہے۔ اپوزیشن کی بات کریں تو وہ خود بکھری پڑی ہے اور اس کے پاس پارلیمنٹ میں اتنی عددی استعداد نہیں کہ وہ میاں صاحب کو اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکال سکیں ،جبکہ پیپلز پارٹی جب بھی جمہوریت کے خلاف کسی خطرے کی بو سونگھتی ہے تو فوراً دفاع میں آ جاتی ہے۔ پھر خطرہ انہیں راولپنڈی سے ہی ہو سکتا ہے ، لیکن مسلم لیگی خود کہتے ہیں کہ پنڈی اور اسلام آباد والے ایک ہی پیج پر ہیں اور دونوں شریفوں نے پہلی بار متحد ہو کر حالات سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب موجودہ حالات راحیل شریف اور نواز شریف کی مشترکہ سوچ کا نتیجہ ہیں تو پھر حکومت پر کس چیز کا خوف طاری ہے۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران سوشل میڈیا پر اس امر کا تذکرہ بارہا ہوا ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائیاں صرف سندھ اور کسی حد تک خیبر پختون خواہ میں جاری ہیں، کیا صوبہ پنجاب میں کرپشن نہیں ہو رہی؟ شاید میاں صاحب کو پتہ چل چکا ہے کہ معاشی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھ کر جلد ہی پنجاب اور وفاق کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے ہی والا ہے، جہاں اعلیٰ ترین شخصیات کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ کیا انہیں پتہ چل چکا ہے کہ کرپٹ عناصر پر ہاتھ ڈالنے والے ادارے حکومت کو صرف آگاہ کرتے ہیں اور وہ اجازت نہیں لیتے۔ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا بشمول فیس بک، ٹوئیٹر پر ایک لفظ شرارتاً انداز میں لکھا جا رہا ہے۔ کوئی بھی بات ہو، کہیں کی ہو اور کیسی ہی ہو آخر میں ”شکریہ راحیل شریف” لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ بات حکمران جماعت کے حمایتیوں کو بطورِ طنزیہ انداز میں تنگ کرنے کی نیت سے لکھی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کچھ بھی نہیں کر رہی، ملک کے اندر جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ راحیل شریف ہی کر رہے ہیں۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ راحیل شریف ایک انتہائی قابل، محنتی اور ایماندار جرنیل ہیں۔ یہ ان ہی کی بدولت ممکن ہوا کہ ملک میں پہلی بار جرنیلوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ورنہ آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا۔ اس کارروائی کے بعد ان کے عزم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غلط کام چاہے فوجی کرے یا سویلین اس کے خلاف کارروائی ہو گی اور یہ جنرل راحیل کی ہی شاخسانہ ہے کہ اس وقت ملک کی مجموعی فضاء پرامن ہے، ملک بھر میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں چل رہی ہیں۔ نواز شریف فوج کے ساتھ ہیں یا نہیں اس سے قطع نظر اس سارے احتساب اور سیاسی و معاشی آپریشن کی زد میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت بھی آئے گی اور اس سے شریف برادران یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اب ان کا اقتدار اگر رسماً ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کے اختیارات جو اس وقت بھی محدود ہیں غالباً بالکل ہی ختم ہو جائیں گے۔ سندھ اور بلوچستان کے ساتھ پنجاب میں معاشی دہشت گردوں پر ہاتھ ڈالنا اب فوج کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی کہ دوسری صورت میں ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے اور سب جانتے ہیں کہ پنجاب میں معاشی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہاتھ ڈالا گیا تو گزشتہ پچیس سال میں شریف خاندان حکومت کرتا رہا ہے، اس لیے لوٹ مار کے زیادہ تر ثبوت بھی اس دور میں تلاش کیے جائیں گے۔ فوج کی طرف سے براہ راست مداخلت کے کوئی امکانات نہیں ہیں البتہ جب نندی پور، ایل این جی، میٹرو بس اور سولر انرجی سمیت درجن بھر اسکینڈل سامنے آتے ہی احتساب کا ڈنڈا چلے گا تو پھر مجبوراً حکومت کو ہاتھ کھڑے کرنا پڑیں گے بصورتِ دیگر اگر کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی تو پھر ایسے میں میاں صاحب کا یہ خدشہ درست ہے کہ کوئی اُن کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *