یورپین ممالک میں تارکین وطن کی حالت مخدوش ، راستے ہی میں موت کا شکار ہونے لگے

بارسلونا… اچھے مستقبل کا خواب آنکھوں میں لیے غیر قانونی راستوں کے ہزاروں مسافر منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی ابدی نیند سو گئے ، رواں سال hamwatanتقریباَ تین ہزار تارکین وطن کشتیاں ڈوبنے اور دیگر حادثات کا شکار ہوئے ہیں۔بہترمعاش کی تلاش میں یورپی ممالک کا رخ کرنے والے ہزاروں افراد غیر قانونی راستوں کا انتخاب کرتے ہیں لیکن شازو نادر ہی کوئی منزل پر پہنچ پاتا ہے۔سمندر کی بے رحم موجیں اور خطرناک حادثات افلاس کے ماروں کو موت راستے میں دبوچ لیتی ہے ، انجان راستوں کے ان بدقسمت مسافروں کو کفن ملتا ہے نہ دفن ہونے کے لیے زمینرواں سال تقریباَ تین ہزار تارکین وطن کو موت نے اپنی آغوش میں لے لیا ، میانمر سے نکلنے والے سیکڑوں روہنگیا مسلمان کشتیاں ڈوبنے سے ہلاک ہوئے۔لیبیا کے ساحلی شہر،،زوارہ میں دو کشتیاں ڈوبنے سے دو سو افراد ہلاک ہوگئے ، آسٹریا میں بھی ایک لاوارث ٹرک سے اکہتر افراد کی لاشیں ملیں ، ایک واقعے میں برطانیہ ، سویڈن، سپین اور اٹلی کے بحری جہازوں کے عملے نے پندرہ کشتیوں میں سوار دو ہزار چار سو تارکین وطن کو سمندر میں ڈوبنے سے بچایا۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *