تارکینِ وطن کی ہلاکتوں پر اقوام متحدہ کا تشویش کا اظہار

hamwatan
اقوام متحدہ کا کہنا ہے تارکین وطن کو ہلاکتوں سے بچانے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ چند دن دنوں میں یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران سینکڑوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے اجتماعی طور سیاسی ردعمل کے اظہار کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے متعلقہ ممالک سے نقل مکانی کے محفوظ اور قانونی راستوں کو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو ہنگری سے متصل مشرقی سرحد کے قریب ایک لاوارث ٹرک سے شام سے تعلق رکھنے والے 71 افراد کی لاشیں ملی تھیں جبکہ 200 کے قریب افراد کا لیبیا کے ساحل کے قریب کشتیاں الٹے سے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
بان کی مون کا کہنا ہے کہ انسانی زندگیوں کے ضیاع پر وہ ’دلبرداشتہ اور خوفزدہ‘ ہیں۔
’عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ان تنازعات کو سلجھانے اور دیگر مسائل کو حل کرنے میں زیادہ تندہی سے کردار ادا کرے جن کے باعث ان لوگوں کے پاس ملک چھوڑنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔‘
بان کی مون نے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پناہ حاصل کرنے سے متعلق بین الاقوامی قانون کا جائزہ لیں، اور ’لوگوں کو ان جگہوں پر واپس بھیجنے پر مجبور نہ کیا جائے جہاں انھیں استحصال کا خطرہ ہے۔۔۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض بین الاقوامی قانون کا مسئلہ نہیں ہے کہ بلکہ یہ بطور انسان ہماری ذمہ داری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا: ’یہ ایک انسانی المیہ ہے جس کے لیے ایک فیصلہ کن مجموعی سیاسی ردعمل کی ضرورت ہے۔ یہ یکجہتی کا ایک بحران ہے، نہ کہ اعداد کا بحران۔‘
بان کی مون کی انسانی سمگلروں کے خلاف بھی کارروائی کرنے پر زور دیا ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو لیبیا کے ساحلی شہر زوارہ کے قریب بحیرہ روم میں تارکین وطن کی دوکشتیاں الٹے سے 200 کے قریب افراد کے ڈوب جانے کا خدشہ ہے۔
100 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ امدادی عملہ مزید 100 لاپتہ افراد کی تلاش کر رہا ہے۔
ان کشتیوں میں سوار زیادہ تر افراد شام اور افریقی ممالک سے تھا جبکہ ایک بنگلہ دیشی سفارتکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم پانچ بنگہ دیشی شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک چھ ماہ کا بچہ بھی شامل ہے۔
اٹلی میں پولیس نے دس مشتبہ انسانی سمگلروں کو بھی گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس معاملے میں گرفتار کیے گئے افراد میں تین بیلجیئم اور ایک افغانستان کا شہری ہے۔
یہ ٹرک ویانا جانے والی مرکزی سڑک کے کنارے پانڈارف قصبے کے قریب پایا گیا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ بدھ سے یہاں کھڑا تھا، لیکن اس کے بارے میں جمعرات کو علم ہوا۔
حکام نے اس ٹرک کو مزید معائنے کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا اور انھوں نے جمعے کو بتایا کہ مرنے والوں میں 59 مرد، آٹھ خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افراد ٹرک کی دریافت سے ڈیڑھ سے دو دن پہلے ہلاک ہو چکے تھے اور ان کے جسم گلنا سڑنا شروع ہو گئے تھے۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>