آئندہ بجٹ میں سیلز ٹیکس شرح کم کر کے16فیصد کرنے کی تجویز

اسلام آباد: اقتصادی مشاورتی کونسل(ای اے سی)نے آئندہ مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح کم کرکے سولہ فیصد کرنے کی تجویز دیدی ہے جبکہ طویل البنیادوں پر سیلز ٹیکس کی شرح بتدریج کم کرکے ساڑھے بارہ فیصد تک لانے کا روڈ میپ تیار کرنے کی بھی تجویز دی ہے تاہم نان رجسٹرڈ کمپنیوں کے لیے جرمانے کی شرح میں تین فیصد اضافہ کرنے کی تجویز دی ہے۔

اس ضمن میں 358971-rangers-1432151625-387-640x480 دستیاب دستاویز کے مطابق اقتصادی مشاورتی کونسل کی جانب سے حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیشہ وارانہ مہارت کی حامل اکائونٹنسی کمپنیوں کے ذریعے سیلز ٹیکس و انکم ٹیکس کا مشترکہ (کمبائنڈ)آڈٹ کروایا جائے۔ اس اقدام سے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس افسران کو فراہم کیے جانے والے اکائونٹس میں مستقل مزاجی و ہم آہنگی پیدا ہوگی جو ٹیکس ریونیو اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ ای اے سی کی جانب سے یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ اشیا کی نوعیت کے حوالے سے جاری ہونے والی سیلز ٹیکس انوائسز پر ایچ ایس کوڈ کے اندراج کو بھی لازمی قراردیا جائے۔
اس سے غلط ان پُٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی حوصلہ شکنی ہوگی اور جو کمپنیاں اپنے سیلز ٹیکس کی ادائیگیوں کو کم کرنے کے لیے انوائسز خریدتی ہیں، ان کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی اور فلائننگ و جعلی انوائسز کے اجرا کی روک تھام میں مدد ملے گی اور کمپنیاں وہی ظاہر کرنے پر مجبور ہوں گی جو وہ خریدتی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیکس دہندگان کو تین ماہ کی سیل کے برابر مال تک کے خام مال کو سیلز ٹیکس ریفنڈز کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے اور تین ماہ کی سیل سے زائد کے خام مال پر سیلز ٹیکس ریفنڈز کی اجازت نہ دی جائے۔
اس سے جعلی سیلز ٹیکس ریفنڈ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ ای اے سی کی جانب سے یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ مینوفیکچررز کو فوری طور پر سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبرز جاری کرنے کو لازمی قراردیا جائے اور یہاں یک کہ اگر مینوفیکچررز کے پاس بجلی کا کنکشن تک نہیں لگا ہے اور وہ جنریٹر استعمال کررہا ہے تو اسے بھی سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر جاری کیا جائے۔
اس کے علاوہ برآمد کنندگان کی جانب سے جمع کروائے جانے والے ایک فیصد انکم ٹیکس کو بڑھا کر ڈیڑھ فیصد کیا جائے اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کو ختم کیا جائے اور تب وزارت خزانہ برآمدات کے فروغ کے لیے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی(ٹی ڈی اے پی) کو فنڈز فراہم کرسکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ای اے سی کی جانب سے دی جانے والی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیا جارہا ہے اور قابل عمل تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>