دنیا میں 20 لاکھ خواتین موذی مرض فسٹیولا کا شکار ہوچکی ہیں، ماہرین طب

358971-rangers-1432151625-387-640x480کراچی: دنیا بھر میں ترقی پذیر ممالک میں بہت سی بیماریوں اور معاشرتی مسائل کو اجاگرکرنے کے لیے اقوام متحدہ مختلف مواقع پر ایسے بین الاقوامی ایام کا انعقاد کرتی ہے جس سے لوگوں میں ان بیماریوں سے بچنے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔

امراض نسواں کی بیماری فسٹیولا خواتین میں پائی جانے والی بیماری ہے اس کاعالمی دن ہر سال 23 مئی کو منایا جاتا ہے فسٹیولاکی بیماری بھی بد قسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں رہنے والی خواتین کی ایسی بیماری ہے جس سے نہ صرف بچا جاسکتا ہے بلکہ اس کا موثر علاج بھی ممکن ہے، ان خیالات کااظہار ڈاکٹرحلیمہ یاسمین، سوسائٹی آف آبسٹیٹریشن وگائنا کولوجسٹ پاکستان ڈاکٹر صبوحی مہدی، پاکستان نیشنل فورم آن ویمنز ہیلتھ، جنرل سیکریٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی ڈاکٹر ایم قاضی واثق نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا مقررین نے کہا کہ یہ بیماری زچگی کے دورانیے کے طویل ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے، خواتین مرض لاحق ہونے کے بعد مزید الجھنوں کا شکار ہوجاتی ہے۔
ہزاروں خواتین ہرسال اس شرمناک بیماری کی وجہ سے معاشرے سے کٹ جاتی ہیں اور تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں،21 نومبر 2012 کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک متفقہ قراردادکے ذریعے 23 مئی کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل فسٹیولا ڈے کے حوالے سے منانے کااعلان کیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر میں ماؤں کی صحت کے حوالے سے آگہی اجاگر کی جاسکے اور فسٹیولا جیسی مہلک بیماریوں سے بچایا جاسکے، 20 لاکھ خواتین دنیا بھر میں اس موذی مرض کا شکار ہوکر معاشرے سے الگ رہنے پر مجبو ہوجاتی ہیں، اقوام متحدہ عالمی فسٹیولا دن منعقد کرکے اس بات کی آگہی کو اجاگر کرنا چاہتی ہے اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔
پاکستان میں سالانہ 5 ہزار خواتین فسٹیولاکے مرض کا شکار ہوجاتی ہیں جس کی بنیادی وجہ معاشرتی نا ہمواری، فرسودہ رسم و رواج، غربت، تعلیم کی کمی، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں کی عدم دستیابی، تربیت یافتہ صحت کارکنان کی کمی اور علاقائی سطح پر بنیادی سہولتوںکا نا پید ہونا شامل ہیں، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو اس سلسلے میں تشویش ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ شعبہ صحت سے وابستہ تمام ادارے خصوصاً پی ایم ڈی سی اور سی پی ایس پی اپنی پالیسی، رجسٹریشن اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ مرتب کرے ڈاکٹروں کو تنبیہ کی جائے جو اس طرح کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>