سانتا کلومہ بارسلونا کی خاتون میئر…نوریا پارلون

انٹرویو …ارشد نذیر ساحل
بارسلونا کی نواحی آبادی سانتا کلومہ دے گرامانیت میں غیرملکی باشندوں کی بڑی تعداد مقیم ہے جن میں چین’ مراکش’ لاطینی امریکہ اور پاکستان کے امیگرنٹ شامل ہیں۔ سانتا کلومہ ہمیشہ سے ہی دوسرے علاقوں سے بہتر مستقبل کی تلاش میں آنے والے محنت کش افراد کا ٹھکانہ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس شہر کے داخلی راستے کو ہتھوڑے اور چھینی سے مزین کیا گیا ہے جو محنت کشوں کا زیور کہلاتا ہے۔1960ء کی دھائی میں یہاں سپین کے دوسرے غیر ترقی یافتہ علاقوں کے لوگوں نے پناہ لی ’60کی دھائی میں ہونے والی ہجرت کو ” جھونپڑی کی امیگریشن ” کہا جاتا ہے جن کا پڑاؤ سانتا کلومہ میں ہوا۔ اندلس کے شہروں مالاگا’ غرناطہ’ قرطبہ وغیرہ سے ہجرت کرکے کتلان دھرتی پر قیام کرنے والوں نے سانتا کلومہ میں عارضی جھونپڑیاں بنا کر اپنے مسقبل کا آغاز کیا ۔ سانتا کلومہ کو خوابیدہ بستی بھی کہا جاتا رہا کیونکہ یہاں کے مقیم محنت کش کام سے تھک ہار کر لوٹتے تو صرف آرام ہی ان کی پہلی ترجیح ہوتی اور جب وہ جاگتے تو دوبارہ کام کرنے کیلئے بارسلونا کی فیکٹریوں میں پہنچ جاتے۔ ایک ایک بستر تین شفٹوں میں استعمال ہوتا کیونکہ غریب محنت کش بچت کیلئے اپنے کام کے اعتبار سے آرام کے اوقات کار طے کرلیتے جو انہیں سستا بھی پڑتا تھا۔

جھونپڑی کی امیگریشن میں آنے والوں میںگِل فیملی کے افراد بھی شامل تھے جن کے ہاں2اگست 1974 میں ایک ہونہار بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام نوریا رکھا گیا۔ نوریا نے بارسلونا یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کتلان سیاست میں سرگرم حصہ لینا شروع کردیااور کتلان سوشلسٹ پارٹی میں شامل ہو گئیں۔ 2009میں سانتا کلومہ کے منتخب میئر بار تو میومونیز کو کرپشن کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا تو اس مشکل حالات میں سوشلسٹ پارٹی کو ڈوبتی ہوئی شہرت کو بچانے کیلئے ایک متحرک اور ایماندار میئر کی ضرورت تھی۔ کتلان صدر خوسے مونتیا کی نظر انتخاب نے نوریا پارلون میں ان تمام خوبیوں کو دیکھا اور قائم مقام میئر سانتا کلومہ کیلئے نامزد کردیا۔ انتہائی بدترین حالات میں نوریا پارلون نے سانتا کلومہ کی علاقائی قیادت سنبھالی اور سوشلسٹ پارٹی کے اعتماد کو عوام میں بحال 

 10 فروری 2011ء میں انہیں پارٹی کی جانب سے سانتا کلومہ کی میئر کیلئے منتخب کیا گیانوریا پارلون کی انتھک محنت کام آئی اور لوگوں نے سوشلسٹ پارٹی کو دوبارہ ووٹ دے کر کامیاب بنایا 2011ء سے نوریا پارلون سانتا کلومہ گرامانیت کی میئر کا چارج سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے سانتا کلومہ کے مختلف علاقوں میں اپنے دفاتر بنا رکھے ہیں اور وہاں بذات خود لوگوں سے ملاقات کرکے ان کے مسائل سنتی اور ان کے حل کیلئے کوشاں ہیں۔ نویا پارلون کو امیگرنٹ والدین اور محنت کشوں کی اولاد ہونے میں فخر ہے اور وہ اس بات کا برملا اظہار بھی کرتی ہیں۔ نوریا پارلون کے معمولات میں ہر صبح اپنی اکلوتی بیٹی کو سکول لے کر جانا اور اسے سکول سے لینا شامل ہیں ۔ ان کی بیٹی سرکاری سکول میں ہی تعلیم حاصل کررہی ہے اور نوریا کا اپنی بیٹی کے کلاس فیلوز کے والدین سے گہرا تعلق ہے جن میں اکثریت امیگرنٹس کی ہے اس طرح سے وہ ان کے مسائل سے بھی آگاہ رہتی ہیں

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>