ایران سے ایٹمی مذاکرات، تہران کا افزودہ یورینیم بیرون ملک بھجوانے سے انکار

339721-sohaibmaqsoodFile-1426971586-916-640x480لوزان: سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ ہوئے جبکہ ایران نے افزودہ یورینیم کوبیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کردیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ایران کے جوہری پروگرام پر پیر کے روز ہونیوالے مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف کر رہے ہیں جبکہ امریکا، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ کے علاوہ روس، چین، اور برطانیہ کے نمائندے بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔ سفارت کار منگل تک ایک ایسا طریقہ کار طے کرنا چاہتے ہیں جو ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے عوض اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔ حتمی معاہدہ جون کے آخر تک طے کرنا ہو گا۔اطلاعات کے مطابق روسی وزیر خارجہ مذاکرات کے اس فیصلہ کن دور میں شریک نہیں ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کی ترجمان کا کہنا ہے اگر منگل کی رات کی ڈیڈ لائن تک کسی معاہدے کے حقیقی امکانات پیدا ہو گئے تو روسی وزیر خارجہ مذاکرات میں واپس آ جائیں گے۔ ایک مغربی سفارت کار نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’رکاوٹیں‘ تاحال موجود ہیں۔صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران اور 6عالمی طاقتوں کے درمیان یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس معاہدے کی میعاد کیا ہو گی، کتنی جلدی اقتصادی پابندیاں اٹھائی جائیں گی، اور اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو پابندیاں کیسے دوبارہ عائد کی جائیں گی۔
سفارت کار کا کہناتھا کہ معاہدے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے منگل کی حتمی تاریخ سے پہلے فیصلوں کی فوری نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’ہاں یا نا‘‘ کا وقت ہے۔ادھرامریکی اہلکاروں نے کہاہے کہ کہ 2 بنیادی معاملات پر بات ہو رہی ہے۔ ایک معاملہ ایران پر سے پابندیاں اٹھانے کے طریقہ کار سے متعلق ہے جبکہ دوسرا معاملہ آنے والے برسوں میں ایران کی جوہری دھماکے کرنے کی صلاحیت سے متعلق ہے۔ان معاملات کو حل کرنے کے لیے مختلف تجاویز دی جا رہی ہیں لیکن ابھی تک صحیع معنوں میں ہم آہنگی سامنے نہیں آسکی ہے تاہم یہ بھی ہے کہ کوئی فریق مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹ رہا ہے۔قبل ازیںبرطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہوم لینڈ نے سوئیٹزلینڈ پہنچنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی معاہدے پر پہنچا جا سکتا ہے تاہم ایٹمی بم کو ایران کی پہنچ سے دور رکھنا ہوگا۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پیر کو کہا تھا کہ اس بات پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ایران اپنے افزودہ یورنیم کے ذخیرے کو کیسے تلف کرے گا۔ ایران کے پاس طبی تحقیق اور توانائی پیدا کرنے کے لیے کافی افزودہ مواد چھوڑنے کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس ذخیرے کی افزودگی کی طاقت کو کمزور کر دیا جائے تاکہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔دوسری طرف ایران کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی کے رکن عباس ارقچی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران میں افزودہ کرنے کے بعد ذخیرہ کیے گئے یورینیم کو بیرون ملک بھجوانے کا کوئی ارادہ نہیں تاہم عالمی برادری کی تشویش دور کرنے کے لیے اس مسئلے کے متبادل حل بھی ہیں مسئلے کے متبادل پہلوؤں پرہماری بات چیت ہوئی ہے اور ہم حل کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم یہ طے ہے کہ ایران افزدہ کیے گئے یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کا معاہدہ نہیں کرے گا۔
عباس ارقچی کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری تنازع پر عالمی طاقتوں سے مذاکرات اختتام کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ بیشتر اہم معاملات طے پا گئے ہیں صرف دوتین مسائل حل طلب رہتے ہیں باقی ماندہ اختلافی مسائل پربھی کوئی درمیانی راہ نکالی جا رہی ہے۔ دریںاثنا چین کے وزیرخارجہ ینگ یی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جلد ہی کوئی حتمی معاہدہ ہونے پرایران کے عوام پر عائد پابندیوں کاخاتمہ ہوجائے گا اور ہم اس سلسلے میں بھرپور تعاون کررہے ہیں۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *