شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز … ایک عہد تمام ہوا

عبید اللہ عابد

’’کوئی کتنا طاقتور ہے، یہ اہم نہیں ہوتا، ممالک دنیا پر حکمرانی نہیں کرسکتے، عقل، انصاف، اخلاقیات اور شفافیت کے ساتھ دنیا پر حکمرانی کی جاسکتی ہے‘‘ یہ قول تھا خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا جو91سال کی عمر میں اللہ کے حضور حاضر ہوگئے، وہ طویل عرصہ سے مختلف امراض میں مبتلا تھے، کمر میں تکلیف کے باعث ان کے دو آپریشن ہو چکے تھے جن میں 13 گھنٹے کا ایک طویل آپریشن بھی شامل تھا۔


2010 میں وہ تین ماہ تک امریکہ میں بھی زیر علاج رہے تھے۔ تاہم چندہفتوں سے پھیپھڑوں کے انفیکشن نے ان کی زندگی کے خاتمے کا الارم بجادیاتھا۔ یادرہے کہ وہ ’چین سموکر‘تھے۔ آخری دنوں میں ایک ٹیوب کے ذریعے انھیں سانس دلایاجارہاتھا لیکن جمعرات جمعہ کی درمیانی شب ایک بجے انھوں نے اِس دنیا میں آخری سانس لی اور اگلی دنیا میں پہنچ گئے۔ وہ قریباً ایک عشرہ سعودی مملکت کے باقاعدہ سربراہ رہے۔ عملی طورپر ان کی حکمرانی شاہ فہد بن عبدالعزیزکی زندگی میں اس وقت شروع ہوگئی تھی جب نومبر 1995 میں شاہ فہد امورمملکت سرانجام دینے سے قاصر ہوگئے تھے۔ تاہم خاندانی روایت کے مطابق 2005ء میں سوتیلے بھائی کے انتقال پر ہی خادم الحرمین الشریفین قرارپائے۔

شاہ عبداللہ نے اپنے عہد میں بین المذاہب بہترتعلقات اور مکالمے کے لئے مسلسل کردار اداکیا، نومبر2007ء میں انھوں نے عیسائی دنیا کے رہنما پوپ بینیڈکٹ سے ملاقات کی، شاہ عبداللہ پہلے سعودی حکمران تھے جنھوں نے پوپ سے ملاقات کی۔ مارچ 2008ء میں انھوں نے کہاکہ دنیا کے تمام مذاہب کے مابین برادرانہ اور مخلصانہ مکالمہ ہوناچاہئے۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ شاہ عبداللہ دنیا کو کیسا دیکھناچاہتے تھے۔ وہ اپنے بڑے بھائی اور پیش رو شاہ فہد کی طرح امریکہ کے حامی نہیں تھے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے معاملے میں شاہ عبداللہ نے امریکہ کو زیادہ آگے نہ بڑھنے دیا ورنہ امریکی مشرق وسطیٰ کا نقشہ ہی تبدیل کرناچاہتے تھے۔

شاہ عبداللہ 1970 کی دہائی میں بھی نائب وزیراعظم دوم کے طورپر مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی پالیسیوں کے بڑے ناقد رہے اور عرب ممالک کی یکجہتی کے علمبردارکے طور پر سامنے آئے۔ یہ انہی کا موقف تھا کہ تیل کی دولت سے مالامال عرب ممالک کا اتحاد ہی انھیں مغرب کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت دے سکتا ہے۔ اپنے عہداقتدارمیں انھوں نے خلیجی تعاون کونسل کو ایک بڑی عرب مملکت میں بدلنے کی طرف پیش رفت کی، ایک منڈی اور ایک سکہ رائج کرنے پر خاصا کام ہوچکاہے، جلد ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔
شاہ فہد کے غیرفعال ہونے کے بعد جب شاہ عبداللہ اقتدارسنبھالنے کے لئے آگے بڑھے تو آل سعود کی تاریخ میں پہلی بار شاہی خاندان میں شدیداختلافات پیدا ہوگئے۔ جب انھوں نے خاندان کو یقین دلایا کہ وہ امریکہ سے اتحاد جاری رکھیں گے تو انھیں باگ ڈور سنبھالنے دی گئی۔ تاہم انھوں نے اپنے عہد میں مشرق وسطیٰ کے امن سے متعلق امریکی اور مغربی فارمولوں کی طرف نظربھر کے بھی نہ دیکھا بلکہ اپنا امن فارمولا پیش کیا۔

سن2002 میں عرب لیگ نے عرب اسرائیل تنازع کے خاتمے کے لیے شاہ عبداللہ کی پیش کردہ تجاویز ہی کو اپنایا تھا جن میں اسرائیلی افواج کی جانب سے 1967 سے قبل کی پوزیشن پر واپسی اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے اسرائیل سے امن معاہدے کی بات کی گئی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں کو شاہ عبداللہ نے نہ صرف ناپسند کیا بلکہ اکثراوقات تنقید کانشانہ بھی بنایا۔ جب امریکی صدر بش نے ان کے امن فارمولا کی حمایت نہ کی تو شاہ عبداللہ نے اس کا بھی برا مانا۔
سن1991ء میں جب کویت پر عراق نے حملہ کیاتوشاہ عبداللہ ( تب ولی عہد تھے) نے سعودی عرب میں امریکی فوج کی تعیناتی کی مخالفت کی تھی، ان کا خیال تھا کہ صدام حسین سے بات چیت کے ذریعے یہ معاملہ بہتر انداز میں حل ہو سکتا ہے لیکن شاہ فہد بن عبدالعزیز نے ان کے مشورے کو اہمیت نہ دی۔ بعدازاں جب امورمملکت شاہ عبداللہ کے ہاتھ میں آئے تو انھوں نے امریکی افواج کو سعودی عرب میں مزید رہنے کی اجازت نہ دی۔ان سے ایک ایک کرکے تمام اڈے خالی کرالئے۔

سن 1997 میں انھوں نے ایک لبنانی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’سعودی عرب امریکہ کا دوست رہے گا لیکن ہم ان کے مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح نہیں دے سکتے۔ ہمارے مفادات ہر جگہ موجود مسلمانوں اور عربوں سے وابستہ ہیں۔‘ نائن الیون کے بعد جب امریکی ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب کی منفی شبیہ پیش کرناشروع کی تو شاہ عبداللہ نے ان کی اس پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ وکی لیکس سے پتہ چلا کہ وہ امریکی حکام پر زور دیتے رہے کہ گوانتاناموبے کے تمام قیدیوں کو رہاکردیاجائے۔

یہ حقیقت ہے کہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز امریکہ اور مغرب کو مشرق وسطیٰ میں لگام ڈالنے میں کامیاب رہے۔ انھوں نے صرف انہی ایشوز پر امریکہ اور مغرب سے تعاون کیا جو سعودی مملکت کی جان کوبھی لاگو تھے۔ وہ مغرب سے تعاون میں شاہ فہد کی طرح پرجوش نہیں تھے۔ القاعدہ کو داخلی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتے تھے اس لئے انہی کے حکم پر 2003ء میں اس خطرے کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع ہوا۔

نئی صدی کادوسرا عشرہ شروع ہوتے ہی جب عرب دنیا میں انقلابی تحریکیں برپاہوئیں تو شاہ عبداللہ نے ان کے اثرات سے سعودی عرب کو بچانے کی کوششیںکیں، ان تحریکوں جنھیں ’عرب بہار ‘ کے نام سے بھی پہچاناجاتا ہے، کا آغاز تیونس سے ہواتھا ، وہاں کے حکمران زین العابدین بن علی جب ملک سے فرار ہوئے تو شاہ عبداللہ ہی نے انھیں اپنے یہاں پناہ دی۔ اگلے مرحلے پر مصر میں تحریک بپا ہوئی، حسنی مبارک رخصت ہوئے، ملک میں اخوان المسلمون کی حکومت قائم ہوئی تو وہاں انقلاب کو رول بیک کرنے میں اہم ترین کردار شاہ عبداللہ ہی کا بتایاجاتا ہے۔

بحرین میں’عرب بہار‘ پہنچی، وہاں کے (سعودی حمایت یافتہ) حکمران انقلابی تحریک پر قابو پانے میں ناکام ہوئے تو سعودی عرب نے اپنی فوجیں بحرین میں داخل کردیں اور پھر انقلابی تحریک کچل دی گئی۔ سعودی عرب بحرینی انقلاب کی ذمہ داری ایران پر ڈالتا رہا کہ وہ وہاں اپنا انقلاب ایکسپورٹ کررہاہے۔ شاہ عبداللہ نے شام میں بشارالاسد کے خلاف انقلابی تحریک میں ان انقلابیوں کاساتھ دیا جو القاعدہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ یوں شام میں انقلاب کی حمایت کرکے ایران کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔

شاہ عبداللہ نے اپنے عہد میں سعودی عرب میں سابقہ ادوار کی نسبت زیادہ اصلاحات کیں، میڈیا کوایک حدتک آزادی دی جبکہ خواتین کو امورمملکت میں شامل کرنے کے دروازے کھولے گئے۔ اس اعتبار سے انھیں نسبتاً اعتدال پسند اور اصلاحات پسند حکمران ہی کہاجائے گا۔ ایک انٹرویو کے دوران سعودی عرب میں خواتین سے روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ خواتین کے حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔2011 میں شاہ عبداللہ نے سعودی خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں میونسپلٹی کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جسے کئی دہائیوں میں سعودی خواتین کے حقوق کے سلسلے میں آنے والی سب سے اہم تبدیلی قرار دیا جاتا ہے۔

شاہ عبداللہ کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ انھیں ان طبقات میں بھی اثرورسوخ حاصل تھا جو آل سعود کی حکمرانی سے راضی نہیںہیں۔ یوں شاہ عبداللہ کو برسر اقتدار خاندان اور مخالفین کے مابین ایک پل قرار دیا جا سکتا ہے، اب ان کے چلے جانے کے بعد آل سعود کو نسبتاً کچھ مشکلات کا سامنا کرناپڑے گا۔ یادرہے کہ سعودی عرب کا اقتدارمحض شاہی خاندان کے بل بوتے پر نہیں برقرار رکھاجاسکتا بلکہ اس کے لئے ملک کے طول وعرض میں مختلف طبقات کو خوش رکھنا بھی ہوتاہے۔ بہت سے طبقات باہم مشرق و مغرب جیسا اختلاف رکھتے ہیں، انھیں ساتھ لے کر چلنابھی ہوتاہے۔ شاہ عبداللہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلتے رہے۔ اس تناظر میں یقیناً آل سعود شاہ عبداللہ کی کمی کو شدت سے محسوس کریں گے۔

شاہ عبداللہ … زندگی کا سفر
شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز اگست1924میں ریاض میں پیدا ہوئے، سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے37 بیٹوں میں سے13ویں نمبر پر تھے۔ بدو نسل سے تعلق رکھنے والی ان کی والدہ فہدہ شاہ عبدالعزیزکی16بیویوں میں سے آٹھویں بیوی تھیں۔ ان کا تعلق سعودی عرب کے قبیلے شمر سے تھا۔ اس سے قبل انہوں نے دسویں راشدی امیر سعود سے شادی تھی جنھیں1920ء میں قتل کر دیا گیا تھا۔ شاہ عبداللہ نے روایت کے مطابق بچپن کا بڑا حصہ صحرا میں گزارا۔ ایک نوجوان شہزادے کے طور پر شاہ عبداللہ نے روایتی خیالات کی روشنی میں پرورش پائی اور انھیں دین، ادب اور سائنس کی تعلیم دربار سے وابستہ مسلمان اساتذہ نے دی۔

1962ء میں جب شاہ عبداللہ کی عمر38 برس تھی، اس وقت کے بادشاہ اور ان کے سوتیلے بھائی شاہ فیصل نے انھیں سعودی نیشنل گارڈز کا کمانڈر مقرر کر دیا۔ شاہی خاندان کا تحفظ اس دستے کی کلیدی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ روایتی طور پر اس کا سربراہ آلِ سعود میں سے ہی ہوتا ہے۔ شہزادہ عبداللہ کی زیرِ قیادت سعودی نیشنل گارڈز کی جہاں نفری میں اضافہ ہوا، وہاں اسے جدید ترین ہتھیاروں سے بھی لیس کیاگیا۔

مارچ 1975میں شاہ فیصل کے قتل کے بعد ان کے جانشین شاہ خالد نے بھی عبداللہ بن عبدالعزیز کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دوسرا نائب وزیراعظم بھی بنا دیا۔ 1982 میں شاہ خالد کی وفات کے بعد ملک کے نئے بادشاہ فہد نے اپنے اس سوتیلے بھائی کو اپنا ولی عہد اور ملک کا نائب وزیراعظم اول مقرر کر دیا۔ کہاجاتاہے کہ شاہ فہد کے سات سگے بھائی شہزادہ عبداللہ کو ولی عہد بنانے کے فیصلے پر راضی نہیں تھے ۔ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اپنے سوتیلے بھائیوں کی اس مخالفت کازور آہستہ آہستہ توڑا اور اپنی جگہ پکی کی۔

شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو 18 ارب ڈالر کے اثاثوں کے ساتھ چوتھا امیر ترین حکمران اور دنیاکا آٹھواں طاقت ور ترین انسان تسلیم کیاگیا، ان کی اولاد کے بارے میں مختلف اطلاعات ہیں۔ ان کی ایک بیٹی عدیلہ خواتین کے حقوق کی علمبردار ہیں، وہ واحد شاہی خاتون ہیں جنھیں عوامی تقریبات میں جانے کی اجازت ملی۔

اس وقت شاہ عبداللہ کے چار بیٹوں میں سے جو منظر عام پر ہیں، ان میں سے سب سے آگے شہزادہ مطائب ہیں جنھیں گذشتہ برس نہ صرف نیشنل گارڈز کے کمانڈر کا مضبوط عہدہ دیاگیاہے بلکہ انھیں خصوصی طورپر کابینہ میں ایک نیا عہدہ تخلیق کرکے شامل کیا گیا ہے۔

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>