ايک چيونٹے کي کہاني

ايک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسي صحرا ميں لمبي ٹانگوں والا ايک بڑا سا چيونٹا رہتا تھا – اس کي لمبي ٹانگوں کي وجہ سے دوسري چيونٹياں اسے گھوڑا نما چيونٹا کہا کرتي تھيں – تمام چيونٹياں موسم بہار اور گرما ميں سرديوں کے ليۓ خورا ک جمع کر ليا کرتي تھيں تاکہ بھوک کي وجہ سے شديد سردي ميں کہيں مر نہ جائيں ليکن ان کے برعکس گھوڑا نما چيونٹے کو سرديوں کے ليۓ خوراک جمع کرنے کي ذرا بھي فکر نہيں ہوتي تھي – چھوٹي چھوٹي چيونٹيوں کو ہميشہ يہ فکر ہوتي تھي کہ کہيں بڑي ٹانگوں والا چيونٹا موسم سرما ميں خوراک کي کمي کي وجہ سے مر نہ جاۓ ليکن خود اس چيونٹے کو ذرا برابر بھي اس بات کي فکر نہيں ہوتي کہ مشکل وقت کے ليۓ کچھ سامان کر ليا جاۓ –

دن گزرتے گۓ اور بالخر سرديوں کا موسم بھي ہي گيا – چيونٹيوں نے اپنے بلوں ميں سرديوں کا مناسب سامان جمع کر ليا تھا – کچھ ہي دنوں بعد بڑے چينونٹے نے چيخنا شروع کر ديا کہ ميں بھوکا ہوں ميري کوئي مدد کرے – وہ بڑي تيزي کے ساتھ مختلف اطراف ميں بھاگ رہا تھا اور مدد کے ليۓ پکارے جا رہا تھا – چيونٹيوں نے اسے وازيں ديں مگر وہ پريشاني کے عالم ميں کسي کي بھي واز سننے سے قاصر تھا – سب نے فيصلہ کيا کہ مل کر بلند واز ميں اسے پکارتے ہيں – انہوں نے يہ کام بھي کيا ليکن پھر بھي وہ چھوٹي چيونٹيوں کي طرف متوجہ نہ ہوا –

چيونٹيوں ميں سے ايک عقل مند تھي – اس نے کہا ميں ابھي ايک کام کرتي ہوں – ہو سکتا ہے کہ اس سے بڑا چيونٹا ہماري بات سن لے – عقل مند چيونٹي ايک طرف بيٹھ گئي اور جونہي بڑا چيونٹا چلاتے ہوۓ اس کے قريب سے گزرنے لگا تو عقل مند چيونٹي نے اچھل کر اس کے پاؤں کو پکڑا اور زور سے کاٹ ليا – بڑا چيونٹا درد کي شدت سے چلايا اور رک گيا –

عقل مند چيونٹي نے اسے کہا کہ تم رام سے کيوں نہيں بيٹھتے ہو ؟ مدد بھي چاہتے ہو اور رکتے بھي نہيں ہو ؟ عقل مند چيونٹي نے کہا کہ ہم پ کو خوراک کے دانے دے ديتے ہيں مگر مجھے يہ خيال بھي رہا ہے کہ جس دن ہم پ سے قرض دي ہوئي يہ خوراک واپس لينا چاہيں گے تو تجھے کيسے پکڑيں گے ؟

اس کہاني سے يہ بات ثابت ہوتي ہے کہ انسان کو برے وقت کے ليۓ ہميشہ کچھ سامان کرکے رکھنا چاہيۓ – ہميں فضول خرچي سے پرہيز کرتے ہوۓ مصيبت کے وقت کے ليۓ کچھ نہ کچھ بچا کر رکھنا چاہيۓ تاکہ اگر ايسے مواقع پر دوسرے ہمارے مدد کو نہ بھي پہنچيں تو ہم خود اس قابل ہوں کہ مصيبت کا دليري کے ساتھ مقابلہ کر سکيں –

Pin It

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *