یورپ میں مساجد کی حالتِ زار

۔ریاض احمدچودھری

سویڈن کے جنوبی شہر اَیسلوو میں واقع مسلمانوں کی ایک اور مسجد آگ کے شعلوں کی زد میں آ گئی۔اس مسجد میں یہ آگ پیر کو سحری کے قریب تین بجے لگی۔ یہ آگ جلد ہی بجھا دی گئی اور کوئی شخص زخمی نہیں ہوا، صرف مسجد کی عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔ فائر بریگیڈ کے مطابق یہ ایک شرپسندانہ کارروائی تھی ، قدرتی وجوہات کی بنا پر ایسی آگ لگ ہی نہیں سکتی تھی۔ یورپی ملک سویڈن میں یہ کسی مسجد میں آتش زنی کا ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسرا واقعہ ہے۔ کرسمس کے روز وسطی سویڈن میں بھی شرپسندوں نے ایک مسجد کو آگ لگا دی تھی۔ اس حملے میں پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔سویڈن ایک ایسا ملک ہے جو اپنے ہاں سماجی برداشت اور غیر ملکی مہاجرین کے لئے دوستانہ پالیسیوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ وہاں ستمبر میں ہونے والے پارلیمانی الیکشن میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت سویڈن ڈیموکریٹس کو بہت بڑی کامیابی ملی تھی۔ اس وقت یہ پارٹی پارلیمان میں تیسری سب سے بڑی سیاسی قوت ہے۔
اب یہ بات تو عیاں ہوگئی ہے کہ یورپ میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہی بہت سے متعصب اہل مغرب کو خوفزدہ کئے ہوئے ہے، حالانکہ انہیں امن و آشتی کے مذہب اسلام سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ برطانوی سیاسی جماعت یوکے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رہنما گیرارڈ بیٹن نے اس خوف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’برطانیہ میں مقیم مسلمان قرآن مجید کے بعض حصوں سے اظہار لاتعلقی کریں۔ مسلمانوں کو جہاد سے متعلقہ قرآنی حصوں سے اپنے آپ کو الگ کرنا ہو گا ،انہیں یہ بھی کہنا چاہیے کہ یہ ناقابل عمل، غلط اور غیر اسلامی ہے‘‘ ۔گیرارڈ بیٹن کے مطابق: ’’مغربی ممالک نے مسلمانوں کو اپنے ہاں مساجد تعمیر کرنے کی اجازت دے کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اس اجازت کے نتیجے میں پورے مغرب کی سرزمین پر مساجد پھیل گئی ہیں‘‘۔ یہی سیاستدان 2006ء میں قرآن مجید کے بعض حصوں پر پابندی اور 2010ء میں مساجد کی تعمیر پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرچکا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بوسنیا کے سرب علاقے ریپبلکا سربسکا میں چار سو پچاس مسجدیں تباہ کی گئیں، اگرچہ مسجدوں کے بارے میں اعداد وشمار اب بھی مکمل نہیں، لیکن ان کے مطابق ملک بھر میں پندرہ سو سے زیادہ جامع اور دو ہزار مسجدیں تباہ ہوئی ہیں۔سوئٹزرلینڈ میں قریبا 3 لاکھ دس ہزار مسلمان آباد ہیں جو کہ 160 مساجد یا سینٹروں کو نمازوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن باقاعدہ مسجد کے طور پر سارے ملک میں صرف 3 مساجد ہیں۔کچھ عرصہ پہلے سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں کے متعلق ایک ریفرنڈم کرایا گیا جس میں حصہ لینے والوں کی اکثریت نے ملک میں میناروں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ اس معاملے کا آغاز 2007ئمیں اس وقت ہوا جب مسلمان تنظیموں نے سوئٹزرلینڈ کے تین مختلف شہروں میں میناروں کی تعمیر کی اجازت مانگی، نیز سارے یورپ کے مسلمانوں کے لئے برن شہر میں ایک عالیشان سنٹر بنانے کا منصوبہ پیش کیا۔ جب عوام کے سامنے یہ منصوبے آئے تو کچھ لوگوں نے میناروں کی تعمیر کی مخالفت شروع کر دی۔ چنانچہ یکم مئی 2007ء کو میناروں کی تعمیر کے خلاف ایک تحریک کا آغاز ہوا اور29 جولائی 2008ء تک اس تحریک کے حق میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کے دستخط اکٹھے کر لئے گئے تھے۔

ایک زمانہ تھا جب مسلمان یورپ، برطانیہ وغیرہ میں اجنبی تھے۔ اہل یورپ نے مسلمانوں کے لئے دروازے ضرورکھولے، مگر ان کے دل نہیں کھلے تھے،لیکن آج اسلام امریکا و برطانیہ سمیت پورے یورپ میں بڑے جوش وخروش سے پھیل رہا ہے، اسلامی لٹریچر تقسیم ہو رہا ہے۔ لوگ قرآنی تعلیمات، حقائق، سچائی اور دلائل پر مبنی ریسرچ اور تحقیق کے بعد اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ برطانوی جریدے اکانومسٹ کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق مغربی ممالک میں لوگ تیزی سے اسلام قبول کررہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد صرف برطانیہ میں ایک لاکھ لوگ اپنا پرانا مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوچکے ہیں، ہر سال 5200 افراد دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔اسلام قبول کرنے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں ،جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ قابل ذکر وقت گزارا اور ان سے متاثر ہوئے۔
یورپ کی ان تمام سختیوں اور پروپیگنڈے کے باوجود اسلام یورپ میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی اور اسلام کی مقبولیت سے امریکا و برطانیہ سمیت پورا یورپ خاصا پریشان دکھائی دیتا ہے، اسی لئے آئے دن کبھی نعوذ باللہ دنیا کی مقدس ترین کتاب قرآن مجید کو آگ لگاکر اپنے بغض کا اظہار کیا جاتا ہے اور کبھی قرآن مجید کے بعض حصوں سے لاتعلقی کے اظہار کا کہا جاتا ہے۔کبھی خانہ کعبہ و مدینہ منورہ پر حملے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ،کبھی مساجد کے مینار گرانے، مساجد کو مسمارکرنے اور مساجدکی تعمیر پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور کبھی حجاب پر پابندی لگاکر مسلمانوں کو ستایا جاتا ہے۔

Pin It

One thought on “یورپ میں مساجد کی حالتِ زار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *